اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک جانب سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کو بان کی مون اور جان کیری نے 72 گھنٹے کی جنگ بندی کا خواب دکھلایا لیکن دوسری طرف صہیونی حکومت نے آج غزہ میں اس تین روزہ جنگ بندی کی دوگھنٹوں میں دھجیاں اڑا دیں۔ جنگ بندی کے باوجود غزہ کے مظلوم عوام پر اس قدر بم برسائے کہ گزشتہ پچیس دن کی جنگ کے دوران آج کو غزہ کا خونی ترین دن کہا گیا جس میں 120 فلسطینی شہید اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی ہوئی تھی 72 گھنٹوں کیلئے۔ جنگ بندی کے دوران اجڑے غزہ میں امدادی کارروائیاں ہونی تھی، علاقہ مکینوں کو خوارک پہنچانی تھی، شہید فلسطینیوں کی تدفین ہونی تھی، مگر صیہونی حکومت کو یہ سب کچھ منظور نہ ہوا۔ 72 گھنٹوں والی جنگ بندی فقط 2 گھنٹوں بعد ہی روند ڈالی۔ صیہونی فوج نے غزہ میں ایک بار پھر آگ اور خون کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے۔
تازہ ترین حملوں میں 120 سے زائد فلسطینیوں کو شہید جبکہ 500 سے زائد کو زخمی کیا جا چکا ہے۔ غزہ کے مظلوم باسیوں کو جنگ بندی کا خواب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دکھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت آئندہ 72 گھنٹوں کیلئے غزہ میں گولے نہیں برسائے گی، مگر صیہونی حکومت نے عالمی طاقتوں کے دباو، وعدے کی پاسداری نہ رکھی اور حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر مکمل جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کر دیا، جس کی اطلاع اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو بھی کردی گئی ہے۔ جنگ بندی سے منٹوں قبل بھی صیہونی جارحیت جاری رہی، صبح کو کیے جانے والے حملوں میں 14 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
صیہونی حکومت کی جانب سے سیز فائر کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی سیز فائر کا اعلان کرکے ایک بازار پر صہیونی حملے میں درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ آج صبح سیز فائر سے قبل بھی صیہونی حکومت کے ٹینک غزہ کے باسیوں پر آگ اگلتے رہے جس سے چھ فلسطینی شہید ہوگئے۔ امریکی وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کے اعلان کردہ اس عارضی سیز فائر کا انجام دنیا کے سامنے واضح ہے۔ اس سے قبل بھی قاہرہ میں غزہ کے حوالے سے ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں امریکہ اور صیہونی حکومت نے حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرکے ثابت کر دیا تھا کہ وہ ان مذاکرات میں کتنے سنجیدہ ہیں۔
















۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲